ماں تو الفت کا حسیں عنوان ہے
نہ کرے جو قدر وہ نادان ہے
اُف بھی مت کہنا، وَّلَا تَنْهَرْهُمَا
رب کا کتنا سخت یہ اعلان ہے
خود سکھایا رب نے رَبِّ ارْحَمْهُمَا
کیسی عظمت اور کیا ہی شان ہے
ماں کو دیکھے تو ثوابِ حج ملے
یہ رسول پاک کا فرمان ہے
ماں کے قدموں کے تلے جنت رکھی
بالیقیں یہ تو بڑا احسان ہے
ماں کا آنچل، آنچلوں سے خوب تر
جو محبت کا کھلا میدان ہے
ماں کی خدمت رات و دن دل سے کرو
رب کی خوش نودی کا یہ سامان ہے
اے منور تیری قسمت کیا ہی خوب
ماں کی شفقت اور دعا ہرآن ہے

0
13