یہ شہرِ شوق بھی کیا شہرِ بے اماں نکلا
جہاں بھی دیکھا وہیں آدمی گماں نکلا
نہ جانے کس لیے ٹھہری تھی چشمِ تر میں نمی
وہ ایک خواب تھا آنکھوں سے بے نشاں نکلا
ہمیں تو عمر لگی ایک بات کہنے میں
وہ ایک لمحہ جو گزرا ہماری جاں نکلا
لبوں پہ مہر تھی لیکن نگاہ بول اٹھی
سکوتِ شب میں یہی ایک رازداں نکلا
چراغِ دل کو ہوا سے بچا کے رکھا تھا
مگر یہ کیا کہ مرا سایہ بھی دھواں نکلا
سمجھ کے بیٹھا تھا دنیا سے مختلف لیکن
نظر جو خود پہ پڑی ویسا میں کہاں نکلا
کسی کے وصل کی خواہش میں عمر بیت گئی
جو مل گیا تو وہی دردِ امتحاں نکلا
عجیب رسم ہے دنیا کی جس کو چاہا بہت
وہی قریب سے دیکھا تو اک جہاں نکلا
ہوئے اسیرِ محبت تھے کب خبر نہ ہوئی
قفس کے پاس ہی طارِق تھا لا مکاں نکلا

0
3