| خیال طیبہ میں زندگانی سسک سسک کے گزر رہی ہے |
| ہے زندگی کی یہی کہانی سسک سسک کے گزر رہی ہے |
| مدینے جاؤں گا ایک دن میں یہ آرزوئے دلی ہے میری |
| یہاں تو اب میری زندگانی سسک سسک کے گزر رہی ہے |
| سنہری جالی لگا کے سینے میں اپنے دل کو قرار دوں گا |
| اسی تمنا میں یہ جوانی سسک سسک کے گزر رہی ہے |
| سفر ہو طیبہ کا پیارا پیارا ہے در نبی پہ ہو میرا جانا |
| حیات میری ہو جاودانی سسک سسک کے گزر رہی ہے |
| حضور عاصی پہ اک نظر ہو بلا کے طیبہ دکھا دو روضہ |
| کہ فیض سانسوں کی یہ روانی سسک سسک کے گزر رہی ہے |
معلومات