کس نے دیکھا ہے خُدا، چشمِ محمدؐ کے سِوا
دید ممکن ہی نہیں، صورَتِ احمدؐ کے سِوا
رَب ہے محبوب نبیؐ کا، نبیؐ محبوبِ خدا
کیا کہوں ایسی مُحبت کو میں اَنْحد کے سِوا
ذاتِ غائب کا ہیں مظہر شَہِ لَولاکَ لَما
کیا تھا مقصودِ جہاں آپؐ کی آمد کے سِوا
میں نے دیکھی ہے زمیں اور یہ دیکھا ہے جہاں
کہیں فردوس نہیں آپؐ کی مَسند کے سِوا
عرشِ اعلیٰ سے بھی بالا ہے یہ مَرقد کی زمیں
گر بُلائیں تو نہ جاؤں کہیں مَرقد کے سِوا
سبز گُنبد ہے دوعالم میں مُحبت کا نشاں
کون دیتا ہے اَماں صاحِبِؐ گُنبد کے سِوا
میرے اشعار بَنیں آپؐ کی اُلفت کی سَند
شعر کہتا ہی نہیں ہوں اِسی مقصد کے سِوا

0
37