اعلیٰ امام تم ہو، عالی مقام تم ہو
امت کے تم ہو ہادی، جانِ تمام تم ہو
تم جانشینِ حیدرؓ، بازوئے حسنؓ تم ہو
زہراؓ کے چین تم ہو، نانا کے نام تم ہو
توحید کی بقا ہو، تم دین کی پناہ ہو
دینِ نبیؐ کے بے شک، اعلیٰ نظام تم ہو
قبرِ یزید دیکھو، لعنت کا ایک مرکز
ہر اک زباں پہ بے شک، جائے سلام تم ہو
رونے کی وہ جگہ نہ، سرمشقِ کربلا ہے
درسِ جہادِ حق کے، استاد امام تم ہو
عزت ملی ہے تم سے، دینِ خدا کو زینت
حق کے امام تم ہو، حق کا کلام تم ہو
صلحِ حسنؓ ہوئی ہے، خاموش ہم رہیں گے
ہم مقتدی تمہارے، میرے امام تم ہو
آگے اکابرین سے، بڑھنا نہیں ہے اچھا
توہین ہو رہی ہے، کیسے عوام تم ہو
ماتم کریں وہ جاہل، جن کا نہ نام تم ہو
ہم سنیوں کے خاطر، زندہ امام تم ہو
گُل ایسی قوم سے میں، بیزار ہو رہا ہوں
مولیٰ! نہ جس کے دل میں، اب احترام تم ہو

53