| کسی کو پا کے بھی دل کو اگر قرار نہیں |
| سمجھ لو رشتہ محبّت کا سازگار نہیں |
| جو اپنے آپ سے ملنے کی جستجو رکھّے |
| تو عمر بھر اسے رہتا پھر انتظار نہیں |
| گمان ہوتا ہے منزل نہ کوئی دھوکا ہو |
| سفر کے رستے میں ورنہ کوئی غبار نہیں |
| جو عشق ذات سے آگے نکل کے دیکھے کبھی |
| تو پھر جنون کا ہوتا کوئی حصار نہیں |
| خودی کو چھوڑ کے دیکھا تو راز کھلنے لگا |
| جہاں کے راز سبھی ہم پہ آشکار نہیں |
| کسی کے درد کو اپنا بنا کے دیکھ ذرا |
| پھر اپنے دل کے غموں کا کوئی شمار نہیں |
| جو رب کے سامنے رکھ دے انا جھکا کے سر |
| اسے ہو فکر بھلا کیا کہ اختیار نہیں |
| چراغِ دل کو ہوا سے بچا کے کیا کرنا |
| جو جل اٹھے تو اسے تیرگی سے عار نہیں |
| فنا جو عشق میں طارِق ہوا سمجھ لے وہ |
| کہ اس کا عمر کے اعداد پر مدار نہیں |
معلومات