آنکھوں میں ایک خوابِ شام و سحر ہے باقی
کتنا سفر ہؤا ہے کتنا سفر ہے باقی
رستے تمام چھانے، منزل بھی دیکھ ڈالی
دل میں مگر کسی کی دھیمی نظر ہے باقی
بکھرے ہیں کتنے موسم اس زندگی کی رہ میں
یادوں کی ایک خوشبو شام و سحر ہے باقی
تعبیر پا گئے ہیں کچھ خواب رفتگاں کے
آنکھوں میں ایک خوابِ شام و سحر ہے باقی
وقتِ سفر نے ہم کو کتنا بدل دیا ہے
آنکھوں میں پھر بھی خوابِ اک معتبر ہے باقی
مانا کہ دھوپ دنیا ہم کو جلا رہی ہے
دل میں وفا کا لیکن ٹھنڈا شجر ہے باقی
سب لوگ جا چکے ہیں محفل سے تھک کے لیکن
اک تیری یاد کا ہی روشن اثر ہے باقی
گردِ سفر نے چہرے دھندلا دیے ہیں لیکن
آنکھوں میں تیرا اب تک نقشِ قمر ہے باقی
ہم عمر بھر جلے ہیں امید کی چمک میں
دل میں دعا کا ننھا سا اک اثر ہے باقی
ٹوٹی ہوئی صدا میں کچھ حوصلے ہیں ارشدؔ
بکھرا ہوا سہی پر اپنا ہنر ہے باقی
مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

0
2