نگاہ مخمور جب ہو جائے
غموں میں تھوڑا سکون آئے
سعی سے اپنے عمل سدھارے
ہمیشہ رونق، مہک سجائے
بدن تھکائے، کبھی نہ ہارے
پرند جیسے لہو کو گرمائے
کبھی فنا ہو نصیب ہم کو
فرشتہ رب کی طرف بلائے
وطیرہ بھی صاف خوب چمکے
سفیر بن ہاتھ بھی بڑھائے
خواب ناصر رہیں نہ پھر بھی
ضرور احساس کو جگائے

58