ہوش میں نہیں گر خمار اچھا
بے قراری سے ہے قرار اچھا
کس جواب سے ڈر لگے تجھے
فکر و رنج سے دل فگار اچھا
صبر پر ضروری وفا میں ہے
ضبط نا ہو تو پھر فرار اچھا
موجوں سے بھی کترا رہیں ہوں تو
لہروں سے ہو ساحل و کنار اچھا
تیز آندھی و طوفاں چلے تو کیا
باد و باراں سے ہو غبار اچھا
گہرے گھاؤ مدت تلک رہیں
زخم کھانے سے جو فشار اچھا
دربدر نہ ناصؔر بھٹک کبھی
ہے مگر جو اجڑا دیار اچھا

0
22