اشک ہوتے ہیں رواں آنکھوں کے بھر جانے کے بعد
دل بھر آئے جب نہ وہ مانے مُکر جانے کے بعد
کچھ نہ کچھ بدلہ سزا ہو یا جزا مل جائے یاں
آخری گو فیصلہ ہونا ہے مر جانے کے بعد
گھر کے سارے کام دفتر میں رہے سر پر سوار
کام دفتر کے سبھی یاد آئے گھر جانے کے بعد
سوچ کر نکلے تھے گھر سے ہم سفر مل جائیں گے
گر نہ پہنچے قافلے کے کوچ کر جانے کے بعد
وصل کی لے کر تمنّا چل پڑے ہیں اس طرف
پر کہیں لوٹا دیے جائیں نہ ہر جانے کے بعد
بارہا ہم نے تمنّا کی ہے جو پوری ہوئی
کون لوٹا ہے یہاں لیکن گزر جانے کے بعد
گر نہیں طارق کرامت کوئی دیکھو غور سے
معجزوں کا فائدہ کیا ہے اُدھر جانے کے بعد

0
4