گلیاں ہیں مدینے کی مرا دل ہے مسافر
اب یاں سے کہاں جاؤں یہ مشکل ہےمسافر
لو لاک لما درسِ تقدس میں پڑھا ہے
اس راز سے پر آج بھی غافل ہے مسافر
ممکن ہی نہیں ہے کہ بھٹک جائے کسی سمت
در شہرِ مدثر و مزمل ہے مسافر
ہر سو ہے کھلا ذکرِ ورفعنا کا موسم
خوشبو کو یہیں خُلد جو حاصل ہے مسافر
تجھ پر نہ کوئی رختِ سفر اور ہے واجب
بس ایک سفر ایک ہی منزل ہے مسافر
بن جائے سرِ حشر کوئی نعت وسیلہ
اس مدح سرائی میں جو شامل ہے مسافر
یہ گنبدِ خضرا ہے نگاہوں کا جو محور
یہ گلشنِ ازکار عنادل ہے مسافر

0
5