مرگ، اک دم کا فاصلہ ہے مجھے
پھر بھی جینے کا حوصلہ ہے مجھے
وقتِ رخصت سکوں ہوا ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
عمر گذری ہے تیری فرقت میں
کیا ملا عشق کا صلہ ہے مجھے
راہ تکنے میں خاک ہو بیٹھا
تو اداؤں سے روندتا ہے مجھے
یوں تو ہستی میں تو سمایا ہے
ہا ستم! تجھ کو ڈھنڈنا ہے مجھے
خوش کنا تجھ کو میری آہ و بکا
تب تو یہ نالہ جاں فزا ہے مجھے
اے ذکؔی وقتِ دید مر جاؤں
اتنا ہی دل میں ولولہ ہے مجھے

0
5