یہ جسم اصل خاک ہے، یہ روح عکسِ کہکشاں
یہ سانس مثلِ روشنی ہے زیست اپنی رازداں
میں وقت ڈھونڈتا رہا، یہ ہاتھ سے نکل گیا
تھی سوچ کتنی بے خبر، جو بات تھی وہ تھی کہاں
عدم کی سرحدوں پہ کچھ وجود گھومتا رہا
کہ راہ میں تھے دائرے، تھی اور سعی بے نشاں
کہ درد میں بھی تشنگی، یہ حبس میں تھی زندگی
یہ دل میں خواہشوں کا شور، لب پہ حرفِ بے زباں
یہ سچ اگر سراب تھا، تو زندگی فریب تھی
یہ زیست تھی کہ اک خلا، یہ وہم تھا کہ اک گماں

0
4