جھوٹ کا تاج ترے سر سے اتر جائے گا
سچ یہ اک روز ترے سامنے آ جائے گا
وقت دیتا ہے گواہی بھی حقیقت کے لیے
ہر چھپا راز زمانے میں بکھر جائے گا
حق کی آواز کو دیوار نہ سمجھو ہرگز
حق ترے دل میں کسی دن بھی اتر جائے گا
وقت خاموش سہی فیصلہ کرتا بھی ہے
ہر اندھیرا کسی سورج سے ہی ٹکرائے گا
جھوٹ بازار میں کچھ روز تو بک سکتا ہے
سچ مگر ایک نہ اک دن تو نظر آئے گا
لوگ چہروں کے اُجالوں پہ نہ جائیں اکثر
آئینہ وقت کا ہر رنگ دکھا جائے گا
میں نے دیکھا ہے یہی گردشِ دوراں کا چلن
تو جو بوئے گا اسی کا تو صلہ پائے گا
اہلِ دنیا کا یہی ڈھنگ رہا ہے ساگر
جس کا سکہ چلے ہر کوئی اسے چاہے گا

0
5