| پہنچے دیارِ شیخ تو تھا وقتِ ظہر کا |
| اک نور کا نزول تھا، رحمت کا پہر تھا |
| تھے مہتمم بھی ساتھ، ہے ممتاز جن کا نام |
| مفتی جسیرِ بھی تھے، ہے جن کا بڑا مقام |
| عبدالعزیز و مولانا ظاہر تھے ذی وقار |
| تھا عبد باری اور تھا اشرف بھی میرا یار |
| اور میں تقی جو شوق سے اس کارواں میں تھا |
| حضرت کو دیکھنے کی خوشی کے سماں میں تھا |
| کھانے میں دال پیش کی اور نانِ بے نظیر |
| ایسا تھا لطف ان میں کہ ہم ہوگئے اسیر |
| کھانے سے اٹھ کے سب نے ذرا قیلولہ کیا |
| اور میری آنکھ لگ گئی تھی سو میں سو گیا |
| آنکھیں مری کھلیں تو اذاں عصر کی ہوئی |
| یعنی قمر کو دیکھنے کی آئی تھی گھڑی |
| بعدِ نمازِ عصر لگی مجلس آپ کی |
| چائے پلائی ہم کو بھی، خود آپ نے بھی پی |
| مجلس میں ہم سے آپ نے پوچھا کہاں سے ہو |
| اپنے وطن کا نام و نشاں کچھ بیاں کرو |
| ہم سب نے مل کے اپنے وطن کا پتہ دیا |
| ہم سب کہاں سے آئے ہیں، ہم نے بتا دیا |
| پھر کچھ ہی پل میں ہوگئی مغرب کی بھی اذاں |
| بعدِ نماز پھر بندھا مجلس کا اک سماں |
| بیٹے نے پھر حدیث سنائی ہمیں وہاں |
| حضرت نے ہر حدیث کا مطلب کیا بیاں |
| پھر کچھ ہی دیر بعد اذانِ عشاء ہوئی |
| سب نے پھر اٹھ کے اپنی نمازِ عشاء پڑھی |
| پھر اگلی صبح پہنچے تھے ہم سارے ان کے گھر |
| پانے کو اک نگاہِ کرم، فیض کا اثر |
| آغازِ بزم ہونے سے پہلے ہی اس گھڑی |
| سب کو پلائی چائے، عنایت یہ تھی بڑی |
| پندرہ سے بیس منٹ انہوں بیاں کیا |
| پورا بیان ان کا بس اخلاص پر ہوا |
| اگلی عشاء کو آپ کے کمرے میں تھے سبھی |
| شفقت کے ساتھ آپ نے کچھ گفتگو بھی کی |
| اٹھ کر وہاں سے چل دیے ہم سارے اسٹیشن |
| اپنے وطن کی رہ پہ ہوئے سارے گامزن |
| ہے یہ دعا، سدا رہے آباد وہ چمن |
| قمرالزماں کے فیض کو پائے سبھی وطن |
| مجھ کو تقیؔ زیادہ مسرت ہوئی تھی تب |
| کچھ حمد کے سنائے تھے اشعار میں نے جب |
معلومات