کون منزل پہ ہیں پہنچ پائے؟
بیچ رستے میں چھوڑنے والے
روز کعبے طواف کرتے ہیں
روز لوگوں کو لوٹنے والے
جسم لمحوں میں نوچ لیتے ہیں
بات نسلوں کی سوچنے والے
چڑھتے سورج کے ہیں پجاری سب
ان چراغوں کو پھونکنے والے
تم پہ کنکر گرائے جائیں گے
دل کے کعبے کو توڑنے والے
محمد اویس قرنی

0