چرچے ہیں مسرت کے میلاد کی گھڑیاں ہیں
ملتی ہے خوشی جس میں اس یاد کی گھڑیاں ہیں
جو ڈنکے دہر میں ہیں سرکار کی مدحت ہے
ہیں دھوم مچی جس کی دلشاد کی گھڑیاں ہیں
جو یاد کے جوہر ہیں چنتے ہیں ذکر والے
رحمت کی ہو جب برکھا فریاد کی گھڑیاں ہیں
دل کو ہیں سکوں دیتی دلدار کی سب باتیں
جو عطرِ نبی لائے اس باد کی گھڑیاں ہیں
آتے ہیں فدا اس جا مختار کی مجلس میں
کہتے ہیں یہ ہی لمحے ارشاد کی گھڑیاں ہیں
جو عشقِ نبی میں دل کشتہ ہیں محبت کا
بَر وقت انہیں ملتی یہ ساد کی گھڑیاں ہیں
محمود ملیں موتی سرکار کے کوچے میں
جو وقت ملے اس جا امداد کی گھڑیاں ہیں

1
7
### جامع خلاصہ

یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ **میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی، ذکر و مدحتِ نبوی ﷺ، عشقِ رسول ﷺ اور مدینہ منورہ کی نسبت** کے جذبات کو بیان کرتی ہے۔ شاعر میلاد کی مبارک گھڑیوں کو مسرت، شادمانی اور یادِ محبوب ﷺ سے معمور قرار دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ سرکار ﷺ کی مدحت کا چرچا پوری دنیا میں ہے۔

نعت میں **ذکرِ رسول ﷺ کو دل کی خوشی اور سکون کا ذریعہ**، جبکہ آپ ﷺ کی یاد کو قیمتی جوہروں اور مدینہ کی خوشبو لانے والی بادِ صبا سے تشبیہ دی گئی ہے۔ رحمت کی بارش، دعا اور فریاد کے ذریعے شاعر اس روحانی کیفیت کو مزید گہرا کرتا ہے۔

آگے چل کر **مجلسِ رسول ﷺ، ارشادِ نبوی ﷺ اور عشقِ نبی ﷺ** کا ذکر ہے۔ شاعر کے نزدیک جو دل محبتِ رسول ﷺ میں فنا ہو جائیں، ان کے لیے یہ لمحات روحانی دولت اور سعادت سے بھرپور ہیں۔ آخر میں محمودؔ مدینہ و سرکار ﷺ کی نسبت کو قیمتی موتیوں سے تعبیر کرتے ہوئے ایسی گھڑیوں کی آرزو کرتا ہے جو **امداد، کرم، رحمت اور قربِ نبوی ﷺ** کا ذریعہ بنیں۔

**مرکزی پیغام:** یہ نعت میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی سے شروع ہو کر **مدحت، ذکر، یاد، درود و محبتِ رسول ﷺ اور مدینہ کی نسبت** تک پہنچتی ہے، اور آخر میں شاعر کی عاجزانہ دعا بن جاتی ہے کہ اسے سرکار ﷺ کی نسبت سے رحمت و امداد کے بابرکت لمحات نصیب ہوں۔

0