نبی مصطفیٰ ہیں جو مولا کے پیارے
سدا مہرباں ہیں یہ دلبر ہمارے
مثالِ نبی کو نہ ڈھونڈیں دہر میں
خصائل کریمی کے یکتا ہیں سارے
ہیں رحمت خدا کی نبی جانِ عالم
عُلیٰ اُس حسیں کے جہانوں میں نعرے
جہاں قعرِ ظلمت کبھی سے بنا تھا
لئے نور حق آئے ہادی ہمارے
تلاطم نے گھیرے تھے انساں دہر میں
ملے مصطفیٰ سے بھنور میں کنارے
ضمیرِ دہر کو ضیا اُن سے حاصل
ارادت میں جن کی مہر چاند تارے
سخی جانِ عالم نبی دلربا ہیں
انہی کی عطا پر ہیں اپنے گزارے
اے محمود آقا کریمِِ دہر یہ
ہیں دلبر خدا کے خدائی کے پیارے

0
1
7
مجموعی تجزیہ (Precise Assessment)
یہ نعتِ شریف اپنی ساخت اور معنی دونوں لحاظ سے نہایت متوازن ہے:
مرکزی موضوع: محبت، عقیدت، اور ہدایت کا نور
استعارے: نور، بھنور، کنارہ، ظلمت، ضیا — سب روحانی کیفیت کو گہرائی دیتے ہیں
لہجہ: عاجزانہ مگر پُر تاثیر
پیغام: انسانیت کی نجات، اخلاقی بلندی، اور روحانی روشنی کا سرچشمہ ایک ہی ذات ہے
یہ کلام نہ صرف مدح ہے بلکہ ایک روحانی سفر بھی ہے—ظلمت سے نور تک، بھنور سے کنارے تک، اور بے سمتی سے ہدایت تک۔

0