| ہر طرف گرچہ گھپ اندھیرا ہے |
| رات کی کوکھ میں سویرا ہے |
| پیڑ پر ناگ کا بسیرا ہے |
| تاک میں جس کی اک سپیرا ہے |
| آپ نے جب سے مُنہ کو پھیرا ہے |
| میری آنکھوں تلے اندھیرا ہے |
| حوصلے مختلف اگرچہ ہیں |
| دکھ جو تیرا ہے وہ ہی میرا ہے |
| ہجر ہی حاصلِ محبت ہے |
| دوش میرا ہے اور نہ تیرا ہے |
| دل مرا زخموں کے حصار میں ہے |
| چاروں جانب غموں کا گھیرا ہے |
| یادوں کے ساۓ ہیں بہت لمبے |
| دل کا جنگل بہت گھنیرا ہے |
| جن سے ملتی ہے روشنی سب کو |
| ان چراغوں تلے اندھیرا ہے |
| اپنی مجبوریوں میں میں محصور |
| تجھ کو رسوائیوں نے گھیرا ہے |
| حسن نے کر دیا ہے دل گھایل |
| عشق نے سر مرا بکھیرا ہے |
| ان درختوں کی ہیں گھنی شاخیں |
| پنچھیوں کا جہاں بسیرا ہے |
| میکدے میں ہیں بادہ نوش سبھی |
| چودھری ہے نہ یاں وڈیرا ہے |
| لب کی رنگت ترے گلابی ہے |
| رنگ زلفوں کا اور سنیرا ہے |
| ہم پرستارِ حسن ہیں قادر |
| پریوں کا دل ہمارا ڈیرا ہے |
معلومات