کتاب حسن ہمیں دستیاب کرنے میں
لگائی دیر کسی نے نقاب کرنے میں
جبین و زلف و لب و عارض و نظر سب ہی
شریک ہیں مری نیت خراب کرنے میں
ہوا ہے ایک ہمیں بھی کنول کا پھول عطا
جٹے ہوئے ہیں اسی کو گلاب کرنے میں
کسی کو لمحہ کسی کو تمام عمر لگی
اک آنکھ دیکھی حقیقت سراب کرنے میں
فقط دماغ نہیں خونِ دل بھی ہے شامل
محبتوں کو ورق سے کتاب کرنے میں
ہماری پہلی محبت نہیں مگر پھر بھی
جھجھک رہے ہیں بہت ارتکاب کرنے میں
یہ رائیگانی قمرؔ زندگی کا حاصل ہے
گنوایا خود کو عبث آفتاب کرنے میں
قمرآسیؔ

0
4