| دکھ اتنے ہیں سنبھالے نہیں جاتے |
| اور گھر سے بھی نکالے نہیں جاتے |
| اس رزق کی تلاش میں اے خالق |
| پاؤں سے میرے چھالے نہیں جاتے |
| اک بار عشق آپ کو ہو جائے |
| ساری عمر حوالے نہیں جاتے |
| رشتہ اگر بحال نہ ہو پھر بھی |
| کردار تو اچھالے نہیں جاتے |
| ممکن ہے تیرے شہر میں رک جائیں |
| اپنا اگر بنا لے نہیں جاتے |
معلومات