جاگتے ہیں ہجر میں ہم غم کے مارے رات بھر
اشک سے روشن کیے ہم نے ستارے رات بھر
​عشق کی تاریک راہوں میں بھٹکتے ہی رہے
درد کے سائے رہے اپنے سہارے رات بھر
​دل میں یادوں کی چتا جلتی رہی ہے دیر تک
آسماں پر چاند نے دیکھے نظارے رات بھر
​راکھ میں دب کر بھی زندہ تھا ترا شوقِ وصال
میری آہوں سے نکلتے تھے شرارے رات بھر
​تیرگی نے جب بچھائی اپنی چادر شہر پر
میں نے کاغذ پر ترے چہرے اتارے رات بھر
​کشتیِ جاں ڈوبنے کو ہے غموں کی موج میں
ڈھونڈتی ہیں اب نگاہیں بس کنارے رات بھر
​مجھ کو پاگل کر گئی ہے تیری خاموشی صنم
یاد آتے ہی رہے تیرے اشارے رات بھر
​اک ذرا سی دیر کی اس مسکراہٹ کے عوض
عمر بھر کے ہم نے پائے ہیں خسارے رات بھر
​شادؔ کو تو نے بھلا ڈالا مگر اے ہم نشیں
ہم تری یادوں سے بازی کیسے ہارے رات بھر

0
7