روند کر عرشِ جاں مصلحت آ گئی
چھوڑ کر کہکشاں مصلحت آ گئی
بیچ کچھ بھی نہ تھا اور پھر ایک دن
دونوں کے درمیاں مصلحت آ گئی
ہم وہاں ہیں جہاں صلح ممکن نہیں
ہم جہاں تھے وہاں مصلحت آ گئی
سارے سیراب جوتوں میں بھر بھر پیے
بہرِ تشنہ لباں مصلحت آ گئی
جان چھوٹی بہ مشکل تھی کم بخت سے
پھر سے ہو کر جواں مصلحت آ گئی
ہوتے ہوتے گنہگار ہم بچ گئے
یاد سن کر اذاں مصلحت آ گئی
شاعری تو ہے دل کی حکایت کا نام
شاعری میں کہاں مصلحت آ گئی
بے دھڑک بات کرتا تھا میں ، پھر مجھے
قسمتِ دشمناں مصلحت آ گئی
مصلحت کا ادا کر قمرؔ شکریہ
تجھ کو دینے اماں مصلحت آ گئی
قمرآسیؔ

0
1