| دل کو فنا کی راہ دے، ایسے مگر اقدام کر |
| لب کو ذرا شیریں بنا، گفتار کو اتمام کر |
| محفل میں جب آئے تو کچھ ایسا اثر پیدا نہ ہو |
| دل بھی سبھی مسحور ہوں، آنکھوں کو بھی ناکام کر |
| خود کو سنوار اے ہم نفس باطن کو بھی روشن بنا |
| ظاہر کی زینت چھوڑ دے، دل کو درخشاں عام کر |
| جو بات دل سے نکلی ہو، وہ دل میں جا کر گھر کرے |
| لفظوں کو تول اے دل ذرا، پھر ان کو خوش انجام کر |
| رہتا ہے جو تاثیر میں وہ سادہ سا انداز بھی |
| تو بھی تکلف چھوڑ کر لہجے کو خوش پیغام کر |
| تو ہی تو ہے پردے میں تو ہی تو ہے اک جلوہ مگر |
| اپنے ہی اندر جھانک لے، خود کو نہ یوں بدنام کر |
| ہر ذرّہ ہے آئینہ اُس حسنِ بے پایاں کا ہر اک |
| آنکھوں کو تو بیدار کر، غفلت کو یکسر جام کر |
| تو نے اگر پہچان لی اپنی حقیقت کی جھلک |
| پھر ہر طرف وہ ہی ملے، دنیا کو اک پیغام کر |
| جھٹلا انا کی سلطنت آ جا درِ یاراں پہ تُو |
| سر کو جھکا، دل کو مٹا، ہستی کو یوں اقسام کر |
| ارشدؔ اگر چاہے تو پا سکتا ہے وہ قربِ خزیں |
| اپنی خودی کو توڑ دے، نسبت کو پھر گلفام کر |
معلومات