| فریب رزق کا کوئی تو شائبہ ہو گا |
| پرندہ دام میں یونہی نہیں پھنسا ہوگا |
| چڑھا ہوا ہے جو دریا انا پرستی کا |
| کسی غرور کے صحرا میں جا گرا ہوگا |
| تمام عمر جو سچ کے سوا نہ بولا کچھ |
| اس آدمی کا عجب حوصلہ رہا ہوگا |
| تری دعائیں تجھے روشنی دکھائیں گی |
| اگر چراغِ یقیں دل میں جل رہا ہوگا |
| اثر گماں کا کیا با کمال ہوتا ہے |
| جسے برا سمجھو گے وہی برا ہوگا |
| وہ آدمی کہ جسے ڈھونڈتے ہو تم شاعر |
| کسی کتاب کے اوراق میں چُھپا ہوگا |
| س م د (شاعر) |
| کراچی |
معلومات