| اٹھی یوں ان کے چہرے سے نقاب آہستہ آہستہ |
| چھٹے جوں چاند پر چھایا سحاب آہستہ آہستہ |
| وہ چہرے سے اٹھائیں یوں نقاب آہستہ آہستہ |
| افق سے جیسے نکلے آفتاب آہستہ آہستہ |
| ان آنکھوں سے برستی ہے شراب آہستہ آہستہ |
| کہیں نیت نہ ہو جاۓ خراب آہستہ آہستہ |
| ادا سے کرتے ہیں وہ یوں خطاب آہستہ آہستہ |
| سنیں جو حلق سے نگلیں لعاب آہستہ آہستہ |
| نہیں برپا کبھی ہوتا کوئی بھی انقلاب اک دم |
| کہ آتے آتے آتا ہے شباب آہستہ آہستہ |
| نہیں اٹھتا حسینوں کی حیا کا ایک دم پردہ |
| کہ جاتے جا تے جاتا ہے حجاب آہستہ آہستہ |
| بہار آ جاۓ یک دم اس خزاں پروردہ دل میں بھی |
| کھلیں جب سرخ ہونٹوں کے گلاب آہستہ آہستہ |
| دھڑکتا دل تو سینے میں بہت زوروں سے ہے لیکن |
| نظر کرتی ہے جلوے انجذاب آہستہ آہستہ |
| خود آتے جاتے رفتہ رفتہ ہیں ناز و ادا نخرے |
| حسینوں پر جب آتا ہے شباب آہستہ آہستہ |
| تمہاری بزم میں ساقی ملے ہے سب کو مے یک دم |
| مگر پہنچے ہمیں تک کیوں ثواب آہستہ آہستہ |
| طلب جب بھی کروں پیمانے کے بعد ایک پیمانہ |
| کہے ہے کان میں ساقی جناب آہستہ آہستہ |
| پلا دیں آپ آنکھوں سے تو چھٹ جاۓ کہیں یک دم |
| نہیں چھٹتی لگی منہ سے شراب آہستہ آہستہ |
| خبر تک ہو سکی ہم کو نہ کچھ ترکِ تعلق کی |
| کیا ہم سے یوں اس نے اجتناب آہستہ آہستہ |
| تمیز اب کچھ نہیں مجھ کو برائی اور بھلائی کی |
| گناہوں کا ہوا یوں ارتکاب آہستہ آہستہ |
| جواب ان سے کروں حاصل بھلا کیسے سوالوں کے |
| دبے لفظوں میں دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ |
| ترے آنے کے جوں جوں کم ہوۓ جاتے ہیں امکانات |
| بڑھے توں توں ہے دل کا اضطراب آہستہ آہستہ |
معلومات