دلو ں میں جو صداقت کی لگن آباد رکھتے ہیں
زباں اپنی ستم کے سامنے آزاد رکھتے ہیں
ہوا کتنی مخالف ہو، چراغوں کی تو فطرت ہے
وہ اپنے آپ کے جلنے پہ بھی دل ، شاد رکھتے ہیں
کسی کے زخم پر رکھ دیں اگر لہجے کی ٹھنڈک ہم
تو لفظ اپنے بھی مرہم کی عجب ایجاد رکھتے ہیں
کبھی خاموش رہنا بھی تو حکمت کا تقاضا ہو
تمہیں چپ دیکھ کر ہم کیوں دلِ ناشاد رکھتے ہیں
نہ دولت سے، نہ شہرت سے، نہ منصب سے ہو قد اونچا
بڑے وہ ہیں بڑا جو حوصلہ استاد رکھتے ہیں
جہاں تقسیم ہوتی ہے انا کے ڈھیر سے نفرت
وہیں ہم لوگ رشتوں کو سدا آباد رکھتے ہیں
زمانہ لاکھ چھینے روشنی کا حق چراغوں سے
یہی دل نور سے بھرنے کی استعداد رکھتے ہیں
سبھی شعروں کو لفظوں کا ہی زیور مت بنا دینا
یہی الفاظ تو کردار کی بنیاد رکھتے ہیں
نہ بھولی صورتوں پر جایئو طارِقؔ سمجھ رکھّو
چلاتے ہیں جو تیر آنکھوں سے دل صیّاد رکھتے ہیں

0
6