شوق میں اپنے ہی وہ، بن کر تماشا جل گیا
خواب جب بکھرے تو آنکھوں کا بھروسہ جل گیا
کس سے پوچھیں اب نشانِ کوئے جاناں اے فلک!
رہ روِ پُر شوق کا تو نقشِ پا بھی جل گیا
مصلحت نے جس جگہ ڈالی تھی اپنی اک نظر
اس جگہ تو غیرتِ دل کا تقاضا جل گیا
تجھ سے اب کیا مانگنے آئیں تری بزمِ نشاط
جس میں پلنا تھا ہمیں، وہ آب و دانہ جل گیا
پھر نہ آئی لوٹ کر وہ بے خودی کی چاندنی
وقت کی تپتی ہوئی یہ دھوپ، سایہ جل گیا
بے حسیِ وقت کا اب کیا گلہ کرنا یہاں
جس نے پایا تھا کبھی دردِ زمانہ، جل گیا
اب اسے تم ڈھونڈنا عادل فضائے دہر میں
جستجو کی راہ میں اپنا ٹھکانہ جل گیا

0
5