خواب کچھ دیر حسیں رہنے دو
خُلد کا مجھ کو مکیں رہنے دو
لوگ کہتے ہیں بدل جاتا ہوں
مجھ کو کچھ اور وہیں رہنے دو
جو کہو گے وہی تو سچ ہو گا
لب پہ کچھ حرفِ یقیں رہنے دو
ہر حقیقت نہ عیاں ہو جائے
پردے میں پردہ نشیں رہنے دو
دل نے دنیا کو بہت دیکھ لیا
اب تو کچھ وقت یہیں رہنے دو
جینا آسان نہیں ہے اتنا
زیست کو درد نہیں رہنے دو
تم اگر پاس نہیں آ سکتے
خود کو یادوں میں کہیں رہنے دو
کاش اِس پر ہی عمل ہو جائے
جو مرا دین ہے دیں رہنے دو
با ثمر ہو یہ عبادت کچھ تو
میری سجدے میں جبیں رہنے دو
ایک اپنا تو وہی ہے طارِق
دل کو اُس کے ہی قریں رہنے دو

0
7