| وہ نرم بستر پہ اپنے کمرے میں سو رہا تھا |
| لہو کے آنسو میں اس کی فرقت میں رو رہا تھا |
| انا بچا کر، بچھڑ کے مجھ سے، وہ خوش تھا لیکن |
| اسے خبر ہی نہیں تھی وہ کس کو کھو رہا تھا |
| کریدتا تھا وہ زخم نوکِ سناں سے میرے |
| میں دامنِ ضب ط تھامے پلکیں بھگو رہا تھا |
| چراغ یادوں کے ٹمٹمانا ہی بھول جاتے |
| وہ جس طرح مجھ سے دور ہی دور ہو رہا تھا |
| سماں تھا شب کا فضا میں ہر سمت تیرگی تھی |
| کسی کو فرصت ملی تھی اب، پھول بو رہا تھا |
| بچھڑنے والوں کی سن رہا تھا میں داستانیں |
| ترے بچھڑنے کا درد خنجر چبھو رہا تھا |
| جھجک رہا تھا وہ بات لکھتے ہوئے مؤرخ |
| وطن پرستی کے نام پر جو بھی ہو رہا تھا |
معلومات