تری خاموشیوں میں بھی صدا محسوس ہوتی ہے
ترے ہونے سے دنیا باصفا محسوس ہوتی ہے
ترے چہرے پہ ٹھہری روشنی کے روبرو مجھ کو
دُھندَلْکوں سے بھری باقی فضا محسوس ہوتی ہے
عجب اک فاصلہ سا ہے ترے نزدیک آ کر بھی
تری قُربت کی مجھ کو ابتدا محسوس ہوتی ہے
کبھی تنہائیوں میں جب ترا احساس ہو غالب
تو ویرانی بھی مجھ کو دل رُبا محسوس ہوتی ہے
ترے لہجے میں ایسا کوئی موسم بولتا ہے پھر
خزاں بھی اس کے آگے خوش نوا محسوس ہوتی ہے
نہ جانے کون سا رشتہ ہمارے بیچ ہے قائم
کہ ہر نسبت تری نسبت سدا محسوس ہوتی ہے
میں خود کو ڈھونڈنے نکلا تو مجھ پر یہ کھلا آخر
مری ہستی بھی تیری اک ادا محسوس ہوتی ہے
یہ کیسا عشق ہے جس میں کوئی دعویٰ نہیں پھر بھی
ہر اک دھڑکن میں تیری ہی ندا محسوس ہوتی ہے
سنو طارق اسی کا نام ہے شاید محبّت بھی
کہ یادِ یار جنّت کی ہوا محسوس ہوتی ہے

0
4