| اب کوئی امید بھی نہیں باقی |
| تیرے مے خانے سے مجھ کو، اے ساقی |
| ہم کہ نکالے گئے جہاں بھر سے |
| آس لگی ایک بس ترے در سے |
| پھیر لیا مجھ سے منہ، ہوا کیا ہے؟ |
| ماجرا گر جو ہے تو بتا کیا ہے؟ |
| مجھ کو نہیں لت کہ روز پیتا ہوں |
| رند نہیں میں، کوئی سچ میں کہتا ہوں |
| جھوٹا ہے تو کل کا نام لیتا ہے |
| آج ہے مطلوب، گر جو دیتا ہے |
| مجھ کو یہی غم ستائے رکھتا ہے |
| وقت مرا سوچ کر یہ کٹتا ہے |
| کیا غمِ دوراں یوں ہی ستائے گا؟ |
| چین مجھے کیا کبھی نہ آئے گا؟ |
معلومات