محبت کا جہاں دشمن ہے سارا
کرے عاشق بھی تو کیا غم کا مارا
عجب ہے ذہن کا عالم ہمارا
بھلا سا نام تھا شاید تمہارا
تڑپ کر دل نے تم کو ہے پکارا
کوئی تو آسرا دو تم خدارا
نہیں پیدا قفس میں ہم ہوۓ ہیں
ہوا کرتا تھا اک گلشن ہمارا
بلانا ہی ہمیں تھا جبکہ واپس
فلک سے کیوں زمیں پر تھا اتارا
بنا پتھر جو پیچھے مڑ کے دیکھا
عقب سے کس نے یوں مجھ کو پکارا
نہیں ہے بات بھی کرنے کی طاقت
نہیں ہے سانس لینے کا بھی یارا
بہت نزدیک دو دل آ چکے تھے
فلک کو تھا مگر یہ کب گوارا
ہمیں منظور تیرے سب ستم ہیں
مگر احساں ہے تیرا ناگوارا
یہ کہتے وصل کی شب ساری گزری
ذرا تم بات تو سمجھو خدارا
بہت ہی وار کاری ہے اجل کا
سکندر ہی بچا اس سے نہ دارا
نہیں کیوں چھوڑ دیتے عشق کرنا
اگر کھاتا نہیں یہ تم کو وارا
نہیں کچھ جاں جگر دل پاس اپنے
سبھی کچھ اپنا ہم نے تم پہ وارا
عجب دستورِ الفت ہے یہ قادر
محبت میں وہی جیتا جو ہارا

0
4