ہم اپنے آپ سے ملتے تو کیا نہیں ہوتا
یہ اور بات کہ اپنا پتا نہیں ہوتا
یہ جستجو رہی اپنا سراغ پا لیتے
خود اپنی ذات سے بڑھ کر خلا نہیں ہوتا
عجیب شخص ہوں، ہر بار ہار جاتا ہوں
مگر شکست کا مجھ کو گلہ نہیں ہوتا
تمہارے ساتھ بھی تنہا ہی رہ گئے آخر
ہر ایک قرب سے پیدا نشہ نہیں ہوتا
تمہیں بھلا کے بھی ہم کیوں اداس رہتے ہیں
ہر ایک غم کا سبب آشنا نہیں ہوتا
وہ ہم سے پوچھ رہا تھا کہ بھول کیوں نہ گئے
ہر ایک یاد کا کوئی صلہ نہیں ہوتا
ہم اپنے ہونے کا دعویٰ تو کر رہے ہیں مگر
ہر ایک دعوے کے پیچھے خدا نہیں ہوتا
میاں، عجیب تعلق ہے اپنے ہونے سے
کہ اپنے آپ سے کوئی جدا نہیں ہوتا

0
3