| ہم اپنے آپ سے ملتے تو کیا نہیں ہوتا |
| یہ اور بات کہ اپنا پتا نہیں ہوتا |
| یہ جستجو رہی اپنا سراغ پا لیتے |
| خود اپنی ذات سے بڑھ کر خلا نہیں ہوتا |
| عجیب شخص ہوں، ہر بار ہار جاتا ہوں |
| مگر شکست کا مجھ کو گلہ نہیں ہوتا |
| تمہارے ساتھ بھی تنہا ہی رہ گئے آخر |
| ہر ایک قرب سے پیدا نشہ نہیں ہوتا |
| تمہیں بھلا کے بھی ہم کیوں اداس رہتے ہیں |
| ہر ایک غم کا سبب آشنا نہیں ہوتا |
| وہ ہم سے پوچھ رہا تھا کہ بھول کیوں نہ گئے |
| ہر ایک یاد کا کوئی صلہ نہیں ہوتا |
| ہم اپنے ہونے کا دعویٰ تو کر رہے ہیں مگر |
| ہر ایک دعوے کے پیچھے خدا نہیں ہوتا |
| میاں، عجیب تعلق ہے اپنے ہونے سے |
| کہ اپنے آپ سے کوئی جدا نہیں ہوتا |
معلومات