ہم سے کیوں تم کو بد گمانی ہے
بس ذرا تم سے چھیڑ خانی ہے
ہاتھ میں جام ارغوانی ہے
اور طبیعت میں بھی روانی ہے
دل میں جو سوز اک نہانی ہے
اس کی اپنی ہی اک کہانی ہے
تم نے کب دل کی قدر جانی ہے
ہو شکایت تو بے معانی ہے
کتنا ہی بحر میں طلاطم ہو
آخرش تو اترتا پانی ہے
آپ کے پاس وقت ہے تھوڑا
میری لمبی بہت کہانی ہے
عشق آتا تھا کب ہمیں کرنا
آپ کی سب یہ مہربانی ہے
زخم ہر اس دلِ شکستہ کا
حسن والوں کی اک نشانی ہے
مشورہ ہے یہ دوستوں کے لۓ
ہاتھ دھو لیں کہ بہتا پانی ہے
جتنا لمبا حیات کا ہے سفر
مختصر اتنی زندگانی ہے
ہم کو بھی آپ سے گلہ ہے اگر
آپ کو ہم سے سرگرانی ہے
دل کو لگتا ہے تو لگے دھڑ کا
آج تقدیر آزمانی ہے
سانس لینے کی بھی نہیں طاقت
ناتوانی سی نا توانی ہے
کیوں سنوں بات میں بھی پھر دل کی
دل نے کب بات میری مانی ہے
کل ملا تھا تپاک سے جو بہت
آج وہ شخص آنجہانی ہے

0
4