وہ کہیں لوٹ کے آئے مرا ہمدم پھر سے
گھر یہ بے رنگ بھی ہو جائے مقدم پھر سے
پھر سے روحانی ہوں روشن ہوں مرے بام و در
ارے نغمے ہوں لبوں پر وہ ہما دم پھر سے
پھر سے کاشانہ مرا ہو یہ عروسی کی طرح
سارے ہونٹوں پہ ہو نغمہ ترا جانم پھر سے
روبرو کر کے تجھے تجھ کو سنایا جائے
وصل کو اوج ملے اپنا ہو سنگم پھر سے
جس کی راہوں پہ گزرتے ہیں شب و روز یہاں
کاش دنیا کو ملے مولا وہ قائم پھر سے
آج دنیا کو ضرورت ہے سکوں کی شفقت
کاش دنیا کا پلٹ آئے وہ ناظم پھر سے

0
4