| وہ کہیں لوٹ کے آئے مرا ہمدم پھر سے |
| گھر یہ بے رنگ بھی ہو جائے مقدم پھر سے |
| پھر سے روحانی ہوں روشن ہوں مرے بام و در |
| ارے نغمے ہوں لبوں پر وہ ہما دم پھر سے |
| پھر سے کاشانہ مرا ہو یہ عروسی کی طرح |
| سارے ہونٹوں پہ ہو نغمہ ترا جانم پھر سے |
| روبرو کر کے تجھے تجھ کو سنایا جائے |
| وصل کو اوج ملے اپنا ہو سنگم پھر سے |
| جس کی راہوں پہ گزرتے ہیں شب و روز یہاں |
| کاش دنیا کو ملے مولا وہ قائم پھر سے |
| آج دنیا کو ضرورت ہے سکوں کی شفقت |
| کاش دنیا کا پلٹ آئے وہ ناظم پھر سے |
معلومات