نَظمیہ غَزَل: تا حَیات اِسْتِثْنا!!! (حِصَّہ اَوّل)
——
مُضْمَرات اِسْتِثْنا، واردات اِسْتِثْنا
گھات گھات اِسْتِثْنا، بات بات اِسْتِثْنا
جو جو دینے بنتے تھے خَتم ہو گئے یکسَر
جو جو دینے بنتے ہیں واجبات، اِسْتِثْنا
وہ جو ہو چُکے سَر زَد وہ جو ہونے والے ہیں
اُن سَبھی جرائم سے کُل نَجات، اِسْتِثْنا
بَس نَہ چلنے والوں کے روز روز کے سَجدے
اور زور والوں کی اِک صَلات، اِسْتِثْنا
اُن کو چُھوٹ دیتی ہیں آئے روز تَرْمِیمیں
ہَم سے عام لوگوں کو پُل صِراط، اِسْتِثْنا
فرق صاف ظاہر تھا، فرق صاف ظاہر ہے
ذات پات اِسْتِثْنا، چُھوت چھات اِسْتِثْنا
روز کی یہ تَرْمِیمیں اُن کے تو کِھلونے ہیں
اور ہَم غریبوں کا مُنکرات، اِسْتِثْنا
اِس میں کُچھ عَجَب کیا ہے مان کیوں نَہِیں لیتے
اُن کی جِیت اِسْتِثْنا، اَپنی مَات اِسْتِثْنا
کُچھ خَبَر نَہ ہو پائی، کُچھ سَمجھ نَہِیں آئی
کون دے گیا کِس کو رَاتوں رَات اِسْتِثْنا
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
4