کرو تدبیر تدبیروں سے بگڑے کام بنتے ہیں
چلی جاتی ہے بلی کیا یوں آنکھیں موند لینے سے
زمیں میں بیجنے پر ہی ہے بڑھتا رزق سوچو تو
خسارہ تو نہیں ہوتا یوں راہِ حق میں دینے سے

0
2
16
پہلی بات تو یہ کہ یہ شعر نہیں قطعہ ہے

کرو تدبیر تدبیروں سے بگڑے کام بنتے ہیں
چلی جاتی ہے بلی کیا یوں آنکھیں موند لینے سے
- یہ مصرعہ بہت غیر شاعرانہ ہے اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے -

زمیں میں بیجنے پر ہی ہے بڑھتا رزق سوچو تو
- بیجنا کیا لفظ ہے - بیج لگانے کو بیجنا نہیں کہتے - بڑھتا رزق ادھورا جملہ ہے اس میں ہے ضرور ہونا چاہیئے -
(وزن سے قطع نظر)

خسارہ تو نہیں ہوتا یوں راہِ حق میں دینے سے
یوں یہاں بھرتی کا لفظ ہے اس کی کوئی جگہ نہیں ہے -

0
بہت شکریہ آپ کی تنقید بجا ہے میں کوشش کروں گا یہ غلطیاں دوبارہ نہ کروں۔ آپ سے گزارش ہے کہ میرے باقی کلام میں بھی جہاں جہاں اصلاح کی ضرورت ہے نشاندہی کریں ممنون رہوں گا۔

0