وہ مزاروں سے بارور آیا
میں حرم سے بھی بے ثمر آیا
وار اس کا تھا، زخم میرے تھے
اور الزام میرے سر آیا
میں نے ہر بات دل سے کہہ دی تھی
پھر بھی ہر لفظ بے اثر آیا
جس جگہ بھی گیا، غموں سے ملا
یوں لگا لوٹ کر میں گھر آیا
اک سفر ختم ہو نہیں پایا
سامنے اور اک سفر آیا
درد یہ ہے کہ عمر بھر چل کر
لوٹ کر بھی میں بے ہنر آیا
دل نے جس پر کیا بہت تکیہ
وہی آخر کہاں نظر آیا
اس جہاں میں تھے قہقہے ناپید
جو بھی آیا وہ چشمِ تر آیا
شاہدؔ اتنا سمجھ سکا آخر
آدمی خود سے بے خبر آیا

0
32