| وہ مزاروں سے بارور آیا |
| میں حرم سے بھی بے ثمر آیا |
| زندگی کو تباہ اس نے کیا |
| پھر بھی الزم میرے سر آیا |
| عقل نایاب ہی رہی مجھ سے |
| نہ مری بات میں اثر آیا |
| منتظر غم تھے جس جگہ میں گیا |
| یہ لگا لوٹ کے میں گھر آیا |
| اک سفر ختم ہو نہیں پایا |
| سامنے اور اک سفر آیا |
| لوٹ آنے کا غم نہیں مجھ کو |
| غم تو یہ ہے کہ بے ہنر آیا |
| سب بھروسے کی مار تھی شاہدؔ |
| اس لیے وہ نہیں نظر آیا |
| ق |
| اس جہاں میں تھے قہقہے ناپید |
| جو بھی آیا وہ چشم تر آیا |
معلومات