| وہ مزاروں سے بارور آیا |
| میں حرم سے بھی بے ثمر آیا |
| وار اس کا تھا، زخم میرے تھے |
| اور الزام میرے سر آیا |
| میں نے ہر بات دل سے کہہ دی تھی |
| پھر بھی ہر لفظ بے اثر آیا |
| جس جگہ بھی گیا، غموں سے ملا |
| یوں لگا لوٹ کر میں گھر آیا |
| اک سفر ختم ہو نہیں پایا |
| سامنے اور اک سفر آیا |
| درد یہ ہے کہ عمر بھر چل کر |
| لوٹ کر بھی میں بے ہنر آیا |
| دل نے جس پر کیا بہت تکیہ |
| وہی آخر کہاں نظر آیا |
| اس جہاں میں تھے قہقہے ناپید |
| جو بھی آیا وہ چشمِ تر آیا |
| شاہدؔ اتنا سمجھ سکا آخر |
| آدمی خود سے بے خبر آیا |
معلومات