ہر موڑ پر ہیں زیست کے منظر نئے نئے
ملتے ہیں راہ گیر یہاں پر نئے نئے
۔
آنسو کبھی خوشی کے کبھی غم کی داستاں
یہ زندگی کے پردے پہ منظر نئے نئے
۔
دم پھونکئے یا پھر کوئی تعویز دیجئے
کرتے ہیں ظلم ہم پہ ستم گر نئے نئے
۔
پتھر سے رشتہ شاخِ ثمر بار ہی کا ہے
کیکر پہ کون پھینکے ہے پتھر نئے نئے؟
۔
اس نے کہا تھا اتنا کہ کہنی ہے ایک بات
اٹھنے لگے تھے دل میں کئی ڈر نئے نئے
۔
صیاد سے پرندے بھی ہیں یوں ملے ہوئے
لاتے ہیں کھینچ کے وہ کبوتر نئے نئے
۔
جی لگنے میں یہاں پہ مدثر، لگے گا وقت
آئے ہیں ہم گھر اپنا بدل کر نئے نئے

0
5