بڑی بے مثل ہے عدالت عمر کی
وہ معیار حق ہے خلافت عمر کی
نہ دی جس نے باطل کو اک لمحہ مہلت
زمانے نے دیکھی ہے ھیبت عمر کی
رہے تاج و تخت ان کے پاؤں کے نیچے
تھی باطل پہ بھاری حکومت عمر کی
رہا ہاتھ میں حق کا پرچم ہمیشہ
رہی سب پہ غالب شجاعت عمر کی
عتیق ان کی الفت میں ہر دن گزارو
ہے جنت کی ضامن محبت عمر کی

0
1