غزل ۔۔۔
جل گئے خاب تدبیر سے
گِلہ کیونکر ہے تقدیر سے
پیار بس پیار بس پیار دے
ِبس سبق اک مِلا پیر سے
غُسل دینا ہے تو مَن کو دے
کیا ہو گا تَن کی تطہیر سے
عشق تو مانگے نیزے پہ سر
یہ ملے گا نہ جاگیر سے
کُو بہ کُو پھیلا ہے نُورِ حق
کیا مِلا قتلِ شبیر سے

0
1