جل گئے خواب تدبیر سے
گِلہ کیوں کر ہو تقدیر سے
پیار ہی پیار بس پیار کر
یہ سبق اِک ملا پیر سے
پاک کرنا ہے تو دل کو کر
کیا مِلا تن کی تطہیر سے
عشق تو مانگے نیزے پہ سر
یہ ملے گا نہ جاگیر سے
کُو بہ کُو پھیلا ہے نورِ حق
کیا ملا قتلِ شبیرؑ سے

0
22