اپنا مسکن ہی بھلا بیٹھے ہیں
باغ فانی کو سجا بیٹھے ہیں
سوچ کر سرمہ اساس عشرت ہم
گرد آنکھوں میں لگا بیٹھے ہیں
عشق کے نام پہ خود کر کے ستم
عزت و حُسن گنوا بیٹھے ہیں
چند نظروں کی رضا جوئی لئے
کر کے اوقات قضا بیٹھے ہیں
اہلِ ایماں بھی بے حیائی کی شراب
اپنی نظروں کو پلا بیٹھے ہیں
گلؔ کو دنیا کی ہوس ایسی ہوئی
راہ دوزخ کی چلا بیٹھے ہیں

125