| اپنا مسکن ہی بھلا بیٹھے ہیں |
| باغ فانی کو سجا بیٹھے ہیں |
| سوچ کر سرمہ اساس عشرت ہم |
| گرد آنکھوں میں لگا بیٹھے ہیں |
| عشق کے نام پہ خود کر کے ستم |
| عزت و حُسن گنوا بیٹھے ہیں |
| چند نظروں کی رضا جوئی لئے |
| کر کے اوقات قضا بیٹھے ہیں |
| اہلِ ایماں بھی بے حیائی کی شراب |
| اپنی نظروں کو پلا بیٹھے ہیں |
| گلؔ کو دنیا کی ہوس ایسی ہوئی |
| راہ دوزخ کی چلا بیٹھے ہیں |
معلومات