دلوں کے طاق پہ کوئی دیا جلاؤ، بڑا اندھیرا ہے
نگاہِ شوق سے ذرا پردہ اٹھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
بھٹک رہے ہیں جو راہی غموں کی وادی میں
انہیں یقیں کا کوئی راستہ دکھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
ہوائے تیز میں لرزاں ہے آج شمعِ حیات
اسے حوادثِ دوراں سے بچاؤ، بڑا اندھیرا ہے
یہ فاصلے جو دلوں کے درمیاں اتر آئے
انا کی جھوٹی فصیلوں کو گراؤ، بڑا اندھیرا ہے
سحر کی آس میں پتھرا گئی ہیں یہ آنکھیں
نویدِ صبح کی کوئی غزل سناؤ، بڑا اندھیرا ہے
کچھ اپنے حصے کا سورج تراش لو اے شاد!
خرد کے سوئے شرارے جگاؤ، بڑا اندھیرا ہے

0
6