| شبِ ہجر میں آنکھیں پرنم کیا |
| کبھی یاد نے دل کو مرہم کیا |
| کوئی داغِ دل سے نہ واقف ہوا |
| جو دیکھا، تو خود نے بھی کم کم کیا |
| یہ کیا کم ہے قسمت کی تلخی کا حال |
| کہ رو رو کے آنکھوں کو شبنم کیا |
| جہاں درد تھا، ہم وہاں تھے ضرور |
| کہ ہم نے ہی ہر زخم کو غم کیا |
| وہ آیا تو اک لرزہ دل میں اٹھا |
| نظر نے ہی دل سے تکلّم کیا |
| ابھی دل کی دھڑکن ہے باقی، مگر |
| یہ محسوس ہوتا ہے، کم کم کیا |
| جب سے سبدر نے دل کی حالت کہی |
| تو اشکوں نے چپ چاپ ترجم کیا |
معلومات