کس طرح آباد صحرا کی پہنائی کروں
میں اکیلا کیوں پھروں سب کو سودائی کروں
سارے  نسخے پھینک کر سب مسیحا چھوڑ کر 
آج اپنے روگ کی خود مسیحائی کروں
آئینے میں دیکھ کر چاکِ دل کر لوں رفو
آنسوؤں کو پونچھ کر صاف بینائی کروں
کس لئے ہے یہ زباں جو نہیں ہلتی کبھی
پارسائی چھوڑ کر عام رسوائی کروں
خطۂ بے آب پر جب کبھی یلغار ہو
خار و خس کے ہم قدم لشکر آرائی کروں
گل کروں شمعیں کہ جو تیرگی کا حل نہیں
توڑ کر خالی سبو  بادہ پیمائی کروں
کاتبِ تقدیر کچھ آتشِ اظہار دے
منجمد حرفوں سے کیا خامہ فرسائی کروں

0
8