آزادی کا گیت سنایا جاتا ہے
آج کے دن یوں دل بہلایا جاتا ہے
علم سبھی کو ہے کہ غلامی قائم ہے
پھر بھی یہاں پر جشن منایا جاتا ہے

0
5