| وعدۂِ لمس کو وفا کر دو |
| اور بدن معتبر مرا کر دو |
| نشہ ممکن ہے سادے پانی سے |
| تم لبوں سے اگر لگا کر دو |
| مختصر ہیں وصال کے لمحے |
| دور کچھ دیر یہ حیا کر دو |
| چوم لو تم جہاں سے جی چاہے |
| وصل کا لطف دو گنا کر دو |
| نخلِ امید زرد ہو رہا ہے |
| اک نظر دیکھ لو ،ہرا کر دو |
| رسمِ الفت ادا کریں گے ہم |
| تم جو چاہو اسے قضا کر دو |
| خود میں رکھو خودی مگر آسیؔ |
| اپنی قربان تم انا کر دو |
| قمرآسیؔ |
معلومات