وعدۂِ لمس کو وفا کر دو
اور بدن معتبر مرا کر دو
نشہ ممکن ہے سادے پانی سے
تم لبوں سے اگر لگا کر دو
مختصر ہیں وصال کے لمحے
دور کچھ دیر یہ حیا کر دو
چوم لو تم جہاں سے جی چاہے
وصل کا لطف دو گنا کر دو
نخلِ امید زرد ہو رہا ہے
اک نظر دیکھ لو ،ہرا کر دو
رسمِ الفت ادا کریں گے ہم
تم جو چاہو اسے قضا کر دو
خود میں رکھو خودی مگر آسیؔ
اپنی قربان تم انا کر دو
قمرآسیؔ

0
3