کہ لطف ایسا ستم ایجاد کر دے
ہمارے دل کو بھی جو شاد کر دے
اڑی پھرتی ہے دل میں خاک میرے
کوئی ویرانہ یہ آباد کر دے
نہیں تقدیر کا کوئی بھروسہ
خرابی کب کوئی افتاد کر دے
بہت احسان ہوگا مجھ پہ ساقی
اگر تھوڑی سی تو امداد کر دے
ہے پل پل مر کے جینے سے تو بہتر
جدا سر تن سے ہی جلاد کر دے
ولی جانے اسے کیوں ہے زمانہ
جو ترکِ عالمِ اجساد کر دے
قفس سے میں کہاں جاؤں نکل کر
مجھے صیاد گر آزاد کر دے
گنے ہیں شمع کے آنسو تو سب نے
کوئی پروانوں کی تعداد کر دے
برے کو مت برائی کو فنا کر
سزا ہم کو خطا ہم زاد کر دے
سزا اس کی بھلا ہو کیا مقرر
کوئی بھولے سے جو فریاد کر دے
ملی ہے اس کو استعداد اتنی
جِنوں سے ہو نہ آدم زاد کر دے
اگر بچنا قفس کی قید سے ہے
شکستہ پنجۂ صیاد کر دے
چھلک کر اشک چشمِ تر سے میری
بیاں سب سے مری روداد کردے

0
3