| کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا |
| دل کا در سب کا وا نہیں ہوتا |
| لوٹ آتا ہے جو خرد رکھے |
| عشق میں وہ فنا نہیں ہوتا |
| زخم عاشق کا لاکھ گہرا ہو |
| درد ظاہر ہُوا نہیں ہوتا |
| سچ کو پہچانتا ہے سچا دل |
| جھوٹ سے آشنا نہیں ہوتا |
| مشکلیں سہل ہو ں سفر کی بھی |
| کم مگر راستہ نہیں ہوتا |
| بانٹنے والے روشنی کم ہیں |
| کیوں اندھیرا جدا نہیں ہوتا |
| رہنما راستہ دکھاتا ہے |
| پھر بھی کیوں حوصلہ نہیں ہوتا |
| جاں فدا کرنا پڑتی ہے طارِق |
| عشق کچھ کھیل سا نہیں ہوتا |
معلومات